اسلامی کیلنڈر کیسے کام کرتا ہے

ہجری کیلنڈر کی سادہ وضاحت، اور یہ کہ اس کی تاریخیں عیسوی میں کیسے بدلی جاتی ہیں۔

ہجری کیلنڈر کی ابتدا

اسلامی کیلنڈر اپنے سال ہجرت سے گنتا ہے، یعنی 622ء میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت سے۔ خود کیلنڈر چند برس بعد، تقریباً 17ھ (638ء) میں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رائج کیا گیا۔

پھیلتی ہوئی اسلامی ریاست کو خطوط اور سرکاری ریکارڈ پر تاریخ ڈالنے کے لیے ایک یکساں نظام کی ضرورت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورے کے بعد ہجرت کے سال کو پہلا سال قرار دیا، اور محرم کو بدستور پہلا مہینہ رکھا گیا۔ اس پہلے سال کا پہلا دن، یعنی 1 محرم 1ھ، جولین کیلنڈر میں 16 جولائی 622 کے مطابق ہے۔

چاند کے ساتھ چلنے والا کیلنڈر

عیسوی کیلنڈر سورج کے حساب سے چلتا ہے، جبکہ ہجری کیلنڈر صرف چاند کے حساب سے۔ مہینہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب غروبِ آفتاب کے بعد باریک سا نیا چاند پہلی بار نظر آئے، اور اگلے چاند تک جاری رہتا ہے جو 29 یا 30 دن بعد دکھائی دیتا ہے۔

ایسے بارہ مہینوں سے 354 یا 355 دن کا سال بنتا ہے۔ چاند پر مبنی دوسرے کیلنڈر، جیسے عبرانی اور چینی کیلنڈر، موسموں کے ساتھ رہنے کے لیے ہر چند سال بعد ایک زائد مہینہ بڑھا دیتے ہیں۔ اسلامی کیلنڈر ایسا نہیں کرتا، اس لیے اس کے مہینے موسموں میں گھومتے رہتے ہیں۔ جو شخص پوری عمر پائے وہ رمضان کے روزے گرمیوں کے لمبے دنوں میں بھی رکھتا ہے اور سردیوں کے چھوٹے دنوں میں بھی۔

رویتِ ہلال اور فلکی حساب

روایتی طریقہ یہ ہے کہ مہینہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی قابلِ اعتماد گواہ 29 ویں دن کی شام کو چاند دیکھ لے۔ اگر چاند نظر نہ آئے، خواہ اس لیے کہ وہ ابھی بہت باریک ہے یا مطلع ابر آلود ہے، تو مہینہ 30 دن کا پورا کیا جاتا ہے۔

اس طریقے کا دارومدار جگہ اور موسم پر ہے، اس لیے مختلف علاقوں میں مہینہ الگ الگ دن شروع ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو ایسا کیلنڈر دینے کے لیے جس کے مطابق وہ پہلے سے منصوبہ بنا سکیں، حساب پر مبنی کئی نظام وضع کیے گئے۔

  • ام القریٰ: سعودی عرب کا سرکاری کیلنڈر، جو مکہ مکرمہ میں چاند کے مقام کے فلکی حساب پر مبنی ہے۔ یہ ویب سائٹ اسی کو استعمال کرتی ہے۔
  • حسابی (Tabular) کیلنڈر: ایک خالص ریاضیاتی نظام جس میں طاق مہینے 30 دن کے اور جفت مہینے 29 دن کے ہوتے ہیں، اور ہر 30 سال میں سے 11 سالوں میں آخری مہینے میں ایک دن بڑھا دیا جاتا ہے۔ مؤرخین پرانی تاریخوں کے لیے اسی سے کام لیتے ہیں۔
  • مقامی رویت: پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، مراکش اور دوسرے ملکوں میں رائج ہے، جہاں ایک سرکاری کمیٹی ہر مہینے کی تصدیق کرتی ہے۔

ہجری تاریخ عیسوی میں کیسے بدلی جاتی ہے

تاریخ بدلنے کا مطلب ہے اسی دن کو دوسرے کیلنڈر میں تلاش کرنا۔ اس کا قابلِ اعتماد طریقہ دنوں کی گنتی ہے۔ کسی بھی کیلنڈر کی ہر تاریخ کو ایک مقررہ نقطۂ آغاز سے گزرے ہوئے دنوں کی مسلسل گنتی کی صورت میں لکھا جا سکتا ہے۔ کنورٹر پہلے ہجری تاریخ کو دنوں کی اس گنتی میں بدلتا ہے، پھر اس گنتی کو عیسوی تاریخ میں۔

مشکل مرحلہ یہ جاننا ہے کہ ہر ہجری مہینہ کتنے دن کا تھا۔ ام القریٰ کیلنڈر کے لیے یہ معلومات مہینوں کے دنوں کے شائع شدہ جدولوں سے ملتی ہیں، اور حسابی کیلنڈر کے لیے 30 سالہ دور سے۔ مہینوں کے دن معلوم ہو جائیں تو باقی کام صرف جمع تفریق کا رہ جاتا ہے۔

موٹے اندازے کے لیے ایک فارمولا بھی کام دیتا ہے۔ عیسوی سال ≈ ہجری سال × 0.97 + 622۔ الٹی سمت میں، ہجری سال ≈ (عیسوی سال − 622) × 1.031۔ ان سے صرف سال معلوم ہوتا ہے، اور سال کے بدلنے کے آس پاس ایک سال کا فرق آ سکتا ہے۔

دونوں کیلنڈروں کا موازنہ

سالانہ تقریباً 11 دن کا فرق جمع ہوتا جاتا ہے۔ تینتیس ہجری سال تقریباً ٹھیک بتیس عیسوی سالوں کے برابر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر اسلامی موقع لگ بھگ ہر 33 سال بعد عیسوی کیلنڈر میں اسی مقام پر لوٹ آتا ہے۔

دونوں کیلنڈروں کے سن کا فاصلہ بھی گھٹ رہا ہے۔ 1ھ میں یہ فرق 621 سال تھا، آج تقریباً 578 سال ہے۔ عیسوی سال 20874 کے آس پاس دونوں کیلنڈروں میں سال کا عدد ایک ہی ہو جائے گا۔

  • بنیاد: ہجری کیلنڈر قمری ہے، عیسوی کیلنڈر شمسی۔
  • سال کی مدت: ہجری میں 354 یا 355 دن، عیسوی میں 365 یا 366 دن۔
  • مہینے کی مدت: ہجری میں 29 یا 30 دن، عیسوی میں 28 سے 31 دن۔
  • دن کا آغاز: ہجری میں غروبِ آفتاب سے، عیسوی میں آدھی رات سے۔
  • پہلا سال: ہجری میں 622ء کی ہجرت، عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا روایتی سال۔

آج ہجری کیلنڈر کہاں استعمال ہوتا ہے

دنیا بھر کے مسلمان اپنی عبادات کے اوقات ہجری کیلنڈر سے طے کرتے ہیں: رمضان کے روزے، حج، دونوں عیدیں، محرم اور ذوالحجہ کے روزے، اور وہ قمری سال جس کے پورا ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

سعودی عرب عرصۂ دراز سے اسے سرکاری کیلنڈر کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور وہاں کی دستاویزات پر عیسوی تاریخ کے ساتھ ہجری تاریخ بھی درج ہوتی ہے۔ باقی اکثر مسلم ملکوں میں روزمرہ کاروبار عیسوی کیلنڈر سے چلتا ہے اور دینی زندگی ہجری کیلنڈر سے۔ اسی لیے ایک تاریخ کو دوسری میں بدلنے کی ضرورت اتنی عام ہے۔

مزید ٹولز اور معلومات